Ik rah chuni aisi by Asia Raees Khan
”ایک راہ چنی ایسی “
تحریر : آسیہ رٸیس خان
خواتین اگست ٢٠٢٣ء
تبصرہ : علی عبداللہ
ع اک رنگ کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں
میر انیس کا یہ مصرعہ آسیہ رٸیس خان پر صادق آتا ہے – ان کی ہر تحریر دوسری تحریر سے منفرد ہوتی ہے – مضبوط اور جاندار پلاٹ کے ساتھ بہترین کردار لکھ کر کہانی کی بنت اتنے پختہ انداز میں کرتی تھیں کہ قاری تحریر کے سحر میں گرفتار ہو جاتا ہے – ان کی ایک اور نمایاں خوبی برجستہ مکالمے ہیں –
برے رویے اور تلخ یادیں ہماری ذات پر برا اثر ڈالتی ہیں –
اپنے کسی پیارے کو تکلیف میں دیکھنا اور اس کی عزت نفس کو روزانہ مجروح ہوتے دیکھنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے ,اور ان حالات میں اگر کوٸی اپنا ساتھ چھوڑ دے تو دل کو بہت ٹھیس پہنچتی ہے ,جیسے ثنا کو فرحین پر ہونے والے ظلم کے باوجود نانا نانی کا رویہ دیکھ کر پہنچی –
کہانی ہے معاف کرنے کی -مسلسل ظلم و ستم سہ کر معاف کرنا آسان نہیں ہوتا- دل دہاٸیاں دیتا ہے ,جسم اور روح پر لگے داغ چیختے ہیں, مگر اللہ کو تو معاف کرنے والا پسند ہے ناں جیسے خبیب نہ کیا –
کہانی ہے فرحین کی جو ساری عمر مار کھاتی رہیں اور بیٹی کی خاطر خاموش رہیں –
کہانی ہے خبیب اور ثنا کی ! دونوں کو تکلیفوں کا سامنا اپنوں سے کرنا پڑا -خبیب نے معاف کرنے کی روش اپناٸی تو ثنا کے لیے نانا نانی کا جرم ناقابل معافی تھا-
اس کہانی میں میریٹل ابیوز کے سنگین ٹاپک کو بہت اچھے انداز میں ایکسپلور کیا گیا –
کسی حد تک ثنا کے شکوے صحیح بھی لگے کہ کیوں فرحین آخر ظلم سہتی رہیں-
خبیب! میرا پسندیدہ ترین کردار! بہت انسپریشن ملی اس کردار سے –
اسلوب : آسیہ رٸیس کا اسلوب بہترین ہے -سنجیدہ موضوع لکھتے ہوٸے بھی مزاح کا تڑکا لگا دیتی ہیں –
بہترین کہانی ہے ضرور پڑھیں-







Leave a Reply