Namkeen panion ka safar complete by Munam Malik

Namkeen panion ka safar complete by Munam Malik

 Namkeen panion ka safar complete by Munam Malik

”نمکین پانیوں کا سفر “
تحریر : منعم ملک
تبصرہ نگار : علی عبداللہ
محبت کا خوبصورت احساس– حسد اور شک کا کیڑا جو دیمک کی طرح رشتے کو چاٹ جاتا ہے — مسلسل صبر  جو ظالم کے گلے کا پھندا ہے — مکر و فریب کے پردے میں لپٹی دوستی — احساس کی ڈور سے بندھے رشتے —
آج کل جہاں لکھنے والوں کا ہجوم ہے اپنی منفرد پہچان بنانا  بہت مشکل کام ہے اور منعم ملک نے اپنی کہانیوں کے ذریعے سے قارٸین کے دل میں جگہ بنا لی —
منعم کے   کردار تو خوبصورت ہوتے ہی ہیں مگر ان کی لفاظی کہانی کے  حسن کو  دو آشتہ کر دیتی ہے —
زیر تبصرہ ناول ”نمکین پانیوں کا سفر“ کہانی ہے صبر کی– وہ صبر جو مومن کی پہچان ہے— وہ صبر جو تاجور نے کیا اور اسے کھا گیا   — تاجور —امام صاحب  کی بیٹی— باپ کی لاڈلی — جسے  اندازہ تک نہ تھا کہ اس کے مقدر میں کتنی آزمائشیں لکھی ہیں — وہ باپ جس سے وہ دنیا میں سب سے زیادہ پیار کرتی تھی اس کی میت کو بھی نہیں دیکھ پائے گی — وہ بہن جو اس کی رازدار تھی اس سے ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے گی– صرف حاکم کی انا کی وجہ سے —
ہائے انا کمبخت  رشتے کھا جاتی ہے اور حاکم کیسا انسان تھا وہ!!!
رعونت اور تکبر کا عملی پیکر جس نے بھائی کی اندھی محبت میں سب کچھ گنوا دیا– بیوی رشتے اور حتی کہ اولاد بھی اور اس کی غلطیوں کی سزا ملی اس کی اولاد کو–
کہانی وہی تھی بس کردار بدل گئی— جہاں کبھی شکیلہ اور تاجور تھی وہاں سیمی اور ثانیہ آ گئیں — کیسی قسمت تھی تاجور کی آہ !! ساری زندگی نا کردہ گناہوں کی سزا پائی اور پھر اولاد کا سکھ بھی نہ دیکھ سکی  —
کہانی ہے مکر و فریب کی — وہ فریب جو شمائلہ بہادر خان نے کیا — سیمی کے لفظوں کو کس استحقاق سے اپنا بنا کر پیش کرتی — شاید سیمی اور شمائلہ کی دوستی یوں ہی چل جاتی اگر شمائلہ کی زندگی میں خضر نہ آتا —
سیمی اور ثانیہ کا خالہ زاد اور شمائلہ کا مداح — وہ آیا تو شمائلہ کی زندگی میں تھا لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا —
لیکن کیسی ریت کی دیوار سی محبت نکلی شمائلہ کی !!  کہ جب محبت کی پرکھ کا وقت آیا تو وہ مکر گئی اور یوں خضر اور سیمی نکاح  کے مقدس رشتے میں بندھ گٸے — اس موقع پر شکیلہ نے ہی  اپنی بہن تاجور کا ساتھ دیا — سیمی تو اس پنجرے سے آزاد  ہو کر چلی گئی لیکن صعوبت مقدر بنی ثانیہ کا  — وہ ثانیہ جس کی انکھوں میں الہڑ پن کے  سنہری خواب تھے — جو کچھ  بننا چاہتی تھی  کرم الہی کے مقدر میں لکھ دی گئی —
ہاٸے کیسی آزماٸش ملی اور تاجور تو زندہ درگور ہو گٸی —
لیکن فریب کا سائیکل ہمیشہ اپنے منبع تک پہنچ کر رہتا ہے —
شمائلہ نے تو اپنے تئیں سیمی اور خضر کو ایک ان چاہے  رشتے میں جوڑ دیا لیکن مقدر میں تو کچھ اور ہی لکھا تھا —
سچ کہتے ہیں نکاح کے دو بولوں میں بہت طاقت ہوتی ہے —
اور خضر تو سیمی   کی زندگی میں فرشتہ ثابت ہوا —
اس نے ثابت کیا کہ وہ واقعی سیمی کا بہترین ہمسفر ہے —-
حاکم  ایک ایسا کردار ہے جس سے نفرت بھی ہوئی اور اس کے لیے دل دکھا بھی کہ وہ فطرت کا برا نہیں تھا بس حالات نے اسے برا بنا دیا —
صدام کا کردار بھی اس خوبصورتی سے لکھا گیا تھا کہ جہاں اس سے  نفرت ہوئی وہیں کچھ مقامات پر اس سے ہمدردی بھی ہوئی—
ایک بہت خوبصورت تحریر !!
منعم  بلا شبہ بہترین کہانی کار ہیں   ہے اور وہ بہت سی خوبصورت کہانیاں لکھنے کا ہنر جانتی ہیں —
اللہ ان کے قلم میں برکت ڈالے آمین!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *