Review by Ali Abdullah 🌹
“سرسوں کا پھول”
شعاع فروری 2012ء
تحریر : سائرہ رضا
تبصرہ: علی عبداللہ
سائرہ رضا ۔۔۔ ڈائجسٹ کی منفرد ترین لکھاریوں میں سے ایک۔۔۔۔ جن کے نام کے ساتھ مرحومہ لگاتے ہوئے بھی دل کانپ جاتا ہے۔۔۔۔
سائرہ رضا کے جملے ٹھٹک کر رکنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔۔۔
منظر نگاری پر قاری عش عش کر اٹھتا ہے اور کہانی کے اندر چھپا پیغام قاری کو چونکا دیتا ہے۔۔۔۔
“سرسوں کا پھول” سائرہ رضا کی وہ کہانی ہے جس کے بارے میں وہ کہتی تھیں کہ یہ اتنی سادہ کہانی تھی جیسے کہ کوئی کاغذ اور اتنی خوبصورت جیسے کوئی گلدستہ۔۔۔
اور یقین جانیے اس کہانی کو پڑھنے کے بعد میں ان کہ سحر میں مبتلا ہو گیا ہوں۔۔۔
کیا جملے ، کس خوبصورتی سے انہوں نے ایک عام سی کہانی کو اتنا خوبصورت بنا کے لکھا کہ یمنی کی تکلیف ،آمنہ کی سمجھداری اور اعزاز کی محبت
دل میں کھب گئی ۔۔۔
کہانی ہے یقین اور توکل کی۔۔۔۔
یقین کہ اندھیرے کے بعد روشنی ضرور ہے۔۔۔
کہانی شکر کی ہے جو ہر حال میں لازم ہے۔۔۔
لیکن انسان ناشکرا ہے۔۔۔ حال پر کبھی قانع نہیں رہتا جیسے یمنی ۔۔۔
لیکن غلط تو یمنی بھی نہیں تھی۔۔۔۔ اچھی زندگی جینے کی چاہ کسی نہیں ہوتی۔۔۔
لیکن اس چاہ میں دوسروں کے جذبات روند دینا بھی تو عقلمندی نہیں۔۔۔۔
دولت کہ سراب کے پیچھے بھاگ کر محبت گنوا دینا خسارہ ہی تو ہے ۔۔۔
ایک تھی یمنی محبوب ۔۔۔ نک چڑھی ، مایوس اور سب سے خفا ۔۔۔
اور ایک تھا صحرا میں زندگی کاٹتا اعزاز مطلوب۔۔۔۔
جسے صحرا پر چمکتے چاند میں یمنی محبوب چمکتی ہوئی دکھتی تھی ۔۔۔
کچھ سینز تو اتنے خوبصورت سینز تھے کہ میں نے بار بار پڑھے۔۔۔
آمنہ اور یمنی کی ساری گفتگو بہت خوبصورت ۔۔۔
اور جہاں اعزاز یمنی کو پھول دیتا ہے وہ سین بہت کیوٹ تھا۔۔
💌🎀🦋۔۔۔۔
لیکن چند سین بہت انٹینس بھی تھے جیسے آمنہ کا یمنی کو تھپڑ مارنا۔۔۔۔
بہت خوبصورت کہانی ہے۔۔۔
ایک چیز جو بہت اچھی لگی کہ آمنہ نے یمنی پر دباؤ نہیں ڈالا بلکہ اسے خود فیصلہ کرنے دیا کہ وہ محبت یا خواہش میں سے کسی چنتی ہے۔۔۔۔
اور اعزاز کی محبت نے یمنی کے دل کو فتح کر لیا ۔۔۔۔
بہت خوبصورت کہانی ۔۔۔







Leave a Reply