Jeeven booti by Aimal Raza

Jeeven booti by Aimal Raza

Jeeven booti by Aimal Raza

Review by Ali Abdullah 🌹

“جیون بوٹی ”
کرن مئی 2026ء
تحریر:  ایمل رضا
تبصرہ نگار:علی عبداللہ
ایمل  رضا کی اس تحریر نے مجھے مکمل طور پر ہلا کر رکھ دیا ہے۔۔۔
بہت کم کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو پڑھنے کے بعد بھی آپ گھنٹوں ان کے بارے میں سوچتے رہیں ۔۔۔
اس کہانی نے مجھے کتنے ہی بھیا جی جیسے کردار یاد دلا دیے ہیں ۔۔۔۔
اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ بھیا جی جیسے ان گنت کردار ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں ،مگر خاموش رہتے ہیں ۔۔۔
بھیا جی ! جو اپنی بہنوں کے لیے سائبان تھے ۔۔۔
مگر ان  کا استحصال ان کی اپنی بہنوں نے کیا ۔۔۔
  بھیا جی!  جنہوں نے اپنی ساری زندگی بہنوں کی تعلیم و تربیت ،پھر ان کی شادیوں، ان کے جہیز پورے کرنے میں لگا دی ،ان کا خیال کرنے والا کوئی نہیں تھا ۔۔۔
تہمینہ جو خود کو پاگل ظاہر کرتی تھی، اپنی باری پر سیانی بن گئی۔۔۔
تہمینہ کی وہ ساس جو بھیا جی کو بہن کے زچگی والے کپڑے  دھوتے دیکھ کر خاموش ہو جاتیں اور کام کرواتیں، بعد میں اسی عورت نے  ان کو خواجہ سرا کا خطاب دے دیا ۔۔۔
بہنوں کی چھاپ نے بھیا جی کی شخصیت پر  اثر تو ڈالا، لیکن خواہشیں تو ان کی بھی تھیں۔۔۔
خواب تو ان کے بھی تھے، لیکن ان کے خوابوں کی فکر کس کو تھی ؟
حرا ،تہمینہ، کرن کی خواہشیں پوری کرتے کرتے وہ اپنا آپ تو بھول ہی گئے۔۔۔
احساس تو تب ہوا جب بالوں میں چاندی چمکنے لگی۔۔۔
لیکن تب شاید بہت دیر ہو چکی تھی۔۔۔
کرن کے بچوں کے کپڑے ہوں یا فاخرہ کے جہیز  کی تیاری،
سب بھیا جی نے بغیر ماتھے پہ شکن لائے کی ،لیکن تابوت میں اخری کیل تو سعدیہ کہ رویے نے ٹھونکی ۔۔۔
ان کی لاڈلی سعدیہ ان سے یوں بدتمیزی کرے گی اور انہیں غاصب ٹھہرا دے گی، یہ تو انہوں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔
انہیں  احساس ہو گیا تھا کہ ان کا بڑھاپا بہنوں کے لیے مشکل پیدا کر دے گا اور  پہلے کبھی انہوں نے بہنوں کو اذیت دی تھی جو اب دیتے ۔۔۔۔
اسی لیے خاموشی سے رخصت ہو گئے ۔۔۔
اس کہانی کو پڑھنے کے بعد میں  سوچنے  پر مجبور ہو گیا ہوں کہ ایسے کرداروں کو ہم کیسے سسکنے اور مرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں💔💔💔 ۔۔۔  مجھے یہ سوال پریشان کرتا ہے کہ معاشرے میں اس قدر استحصال کیوں ہے؟
کہیں بھائی غاصب بنے بیٹھے ہیں تو کہیں بہنیں بھائیوں کی سانسوں پر قابض ۔۔۔
ایک بہت بہت تکلیف دہ  کہانی ۔۔۔
میری آپ سب سے درخواست ہے کہ اس کہانی کو ضرور پڑھیے ،اور آپ بھی ایسے کسی کردار کو جانتے ہیں تو انہیں مرنے کے لیے اکیلا مت چھوڑیے۔۔۔
ورنہ حساب آپ سے بھی ہوگا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *