“مذاق ” از سیدہ
خواتین ستمبر 2025ء
تبصرہ نگار : علی عبداللہ
پرینک کے نام پر جو کچھ سوشل میڈیا پر دکھایا جاتا ہے ، وہ کسی طور قابل قبول نہیں ۔۔۔۔ ان پرینکس کی کی وجہ سے اللہ جانے کتنے لوگ کی زندگیاں تباہ ہوتی ہیں ۔۔۔
بظاہر بے ضرر نظر آنے والے یہ پرینکس جن میں کبھی بے ہوشی کا ناٹک کیا جاتا ہے تو کبھی کسی کو اس کے پیارے کی موت کی خبر سنائی جاتی ہے صرف چند لمحوں کی تسکین اور حظ اٹھانے کے لیے ۔۔۔
خاص کر بہت سے ڈیلی ولاگرز کا تو یہ وطیرہ بن چکا ہے۔۔۔۔
اور سب سے بڑی بات ان پرینکس کو دیکھ کر عام لوگ بھی متاثر ہو جاتے ہیں اور ایسے پرینکس کرنے لگتے ہیں لیکن بعض دفعہ یہی پرینکس اس انسان کی زندگی تباہ کر دیتے ہیں۔۔۔
جیسے شہنیلا نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی اذیت ناک بنالی ۔۔۔۔
پرینکس کے پیچھے شہنیلا کے جنون اور شر پسند طبیعت نے اسے ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کیا ۔۔۔
کہانی کا مقصد تو بہت اچھا تھا لیکن شہنیلا کے لیے بہت دکھ ہوا۔۔۔
مصنفہ کو ٹاپک کی سلیکشن کے لیے بہت داد کے یہ پرینکس کا کلچر ناسور کی طرح ہمارے معاشرے میں بڑھتا ہی جا رہا ہے۔۔۔
کاش کہ شہنیلا کو وقت پہ عقل آ جاتی ۔۔
رائٹر میں آگے جانے کی بہت صلاحیت ہے ۔۔۔
اللہ تعالیٰ قلم میں اور برکت ڈالیں آمین..
Mazaq by Syeda







Leave a Reply