Palkon se uthaon usko complete by Riffat Siraj
#تبصرہ
#پلکوں سے اٹھاؤں اس کو
میں رفعت سراج کے ناولز کی بہت بڑی قدر دان ہوں
پہلے دن سے ہی کہانی گرفت میں تھی
سطحی خوشیوں کو اہمیت دیتی فری ،فری کی محبت کو خود سے چھپاتا واصف
واصف کی ماں اور ماموں کے بیچ پراسرار سا تناؤ جو شاید واصف کی ماں کے پسند کی شادی کی وجہ سے تھا (مگر مصنفہ نے آخر تک اسے پوری طرح کھولا نہیں )
عرشلہ کی نا آسودگی اور داؤد علوی کی کرشماتی شخصیت
اگرچہ اس کہانی کے کرداروں میں وہ رومانویت نظر نہیں آئی جو شہر یاراں میں شہوار اور احسن میں تھی یا پھر دل دیا دہلیز میں یاور علی خان اور ماہین
باری اور روشی کے بیچ تھی
مگر پھر بھی رفعت کا لکھا سند جانئیے اور حظ اٹھائیے
ایسی بُنت ہے کہانی کی اور کرداروں کی کہ کیا کہئے ۔کہیں بھی بوریت کا احساس نہیں ہوتا
رفعت اپنے گرد کرداروں کا جمعہ بازار نہیں لگاتی ،ان کی کہانی میں بہت مختصر کردار ہوتے مگر اتنے تفصلی سے بیان ہوتے کہ آپ کو اپنے گرد چلتے پھرتے محسوس ہوتے ہیں
اب اس کہانی میں فری کی ماں کا کردار بہت پازیٹو تھا جو کبھی فری کے کان کھینچتی ہے کبھی اپنی نند شمسہ کی دل جوئی کرتی ہے کبھی دھیرے دھیرے میاں کو سمجھاتی ہے
پھر زین کا کردار جو شروع سے مجھے ولن لگ رہا تھا لیکن اختتام تک آتے آتے پتہ چلا کہ وہ تو ایک معصوم سی روح ہے
ماریہ کا کردار ، آجکل کے دور میں خدمت کو عبادت سمجھنے والے لوگ خال خال ہیں ۔
مگر اتنے خلوص کے باوجود خالی ہاتھ رہ گئی کیونکہ چاند محض ایک تھا جسے فری کی مانگ میں سجنا تھا سو ہزار جھنجھٹوں کے بعد بھی واصف فری کا مقدر ہی بنا ۔
افسوس تو عرشلہ اور داؤد علوی پر بھی ہے کہ دونوں اپنے اپنے مدار کے سورج ہیں جنہیں قسمت قریب لے بھی آئی مگر پھر دائمی جدائی مقدر میں تھی خیر یہ ہی زندگی کا اصول ہے سب کو سب کچھ نہیں ملتا
اگرچہ اختتام بہت جلد بازی میں کیا گیا لگتا مگر پھر بھی یہ ناول پڑھنے کے قابل ہے ۔
رفعت کبھی بھی کہیں پر بھی کہانی کی گرفت نہیں چھوڑتیں اور یہی خوبی قاری کو اختتام تک باندھے رکھتی
ہے ۔لہذا میری رائے ہے اسے ضرور پڑھیے اور لطف اٹھائیے







Leave a Reply