Sehar jo shab se azeem tar hai complete by Aneeza Syed
“سحر جو شب سے عظیم تر ہے “
خواتین جنوری ، فروری 1991ء
تحریر : عنیزہ سید
تبصرہ نگار: علی عبداللہ
عنیزہ سید ! جن کی کہانی کا فلسفہ اور کرداروں کی گہرائی ان کی تحریر کو اور بھی خوبصورت بنا دیتی ہے اور پھر ان کا انداز تحریر کمال ۔۔۔
کہانی سیاست کے پس منظر میں لکھی گئی جہدوجہد کی ہے ۔۔۔
آمریت اور جمہوریت کے درمیان کشمکش کی جدو جہد مگر بعض دفعہ ہم آمریت کے پردے میں لپٹی ہوئی جمہوریت کو نہیں سمجھ پاتے اور سحر کی تلاش میں اندھیری شب کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں ۔۔۔
کہانی ہے صبا جمال کی ۔۔۔ سمجھدار ، با شعور ، صاف گو لڑکی جسے نگار نیازی نے اپنی باتوں کے فریب اور مکر میں الجھا لیا ۔۔
وہ نگار نیازی جو ساحرہ تھی ۔۔جو اپنی باتوں سے سب کو سحر زدہ کر دیتی ۔۔۔
وہ نگار جو ایک شر پسند سیاسی جماعت کا حصہ تھی جس نے تکلیف سے بلکتے عوام کے جذبات کو للکارا اور یوں بغاوت کے پردے میں وطن دشمنی کا نیا باب شروع ہوا ۔۔۔
لیکن اس سارے فریب کو صبا نہ سمجھ سکی اور جب سمجھی تو بہت دیر ہو چکی تھی ۔۔۔
لیکن کوئی تھا تو جو صبا جمال کا ہمدرد تھا ۔۔۔
جو اسے اس شکنجے میں پھنسنے سے بچانا چاہتا تھا ۔۔۔
اور وہ تھا دائیں بازو کی جماعت کا منصور نیازی ۔۔
کیا طویل شب کی سحر ہو پائے گی ؟
جاننے کے لیے پڑھیے ” سحر جو شب سے عظیم تر ہے”













Leave a Reply