Muqias by Memoona Sadaf

Muqias by Memoona Sadaf

 Muqias by Memoona Sadaf 

“مقیاس ”
کرن اپریل 2023 ء
تحریر: میمونہ صدف
تبصرہ: علی عبداللہ
میمونہ صدف ہر تحریر میں کسی اہم سماجی مسئلے کو اس خوبصورتی سے اجاگر کرتی ہیں کہ قاری تک پیغام بھی پہنچ جاتا ہے اور کہانی میں دلچسپی بھی کہیں کم نہیں ہوتی ۔۔
مقیاس یعنی پیمانہ ۔۔۔ وہ پیمانہ جس میں زاشا کی قابلیت اور تعلیم کو اس کے باپ سے جڑا حوالہ جھکا دیتا تھا ۔۔۔
گزرتے وقت کے ساتھ جہاں  زمانے کا چلن بدلا ،وہاں یہ روش بھی چل پڑی کہ لڑکی نوکری پیشہ ہونا چاہیے اور لڑکا بے شک  ہڈ حرامی  کی زندگی بسر کرے، کہ لڑکی جب کما کے لا رہی ہے تو لڑکے کو کمانے کی کیا ضرورت اور افسوس کے ساتھ اب یہ سوچ بہت سارے لڑکوں میں پائی جاتی ہے ۔۔۔
اب تو باقاعدہ نوکری پیشہ لڑکی کی ڈیمانڈ کی جاتی ہے کہ بھئی آئے اور لڑکے کو کھلائے ۔۔۔۔
اور یوں اس گھر کا قوام اور کفیل جس پہ اس گھر کی نگہبانی اور ذمہ داری عائد ہوتی ہے ڈھیٹ ہوتا چلا جاتا ہے اور عورت کی کمائی پر اپنا حق سمجھنے لگتا ہے ۔۔۔
اسی گھٹن زدہ اور تکلیف بھی ماحول میں آنکھ کھولی زاشا نے جہاں اس کا باپ نہ صرف اس کہ ماں کہ پیسوں پر عیاشی کرتا بلکہ اسے مارتا بھی اور یوں اس کا بچپن خوف کے حصار میں قید ہو گیا ۔۔۔
اور اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ جو خوبی ہم اپنوں میں نہیں ڈھونڈ پاتے ہم وہی خوبی دوسروں میں ڈھونڈنے لگتے ہیں۔۔۔
جیسے زاشا کو ایک ایسے  لڑکے کی تلاش تھی جو لڑکی کے پیسوں کو مال غنیمت نہ سمجھتا ہو ۔۔۔
جو عورت کی عزت کرتا ہو۔۔
جو حقیقی معنوں میں قوام ہو۔۔۔
اور قسمت نے ایک خوبصورت اتفاق کے نتیجے میں اسے بلال سے ملا دیا جو اس مقیاس پر پورا اترتا تھا۔۔۔۔
کہانی میں جس طرح ترکی کی خوبصورت منظر نگاری کی گئی اور فیری والا سین بہت خوبصورت۔۔۔
میمونہ صدف کی ایک اور بہت مجھے بہت پسند ہے وہ یہ کہ ریلیٹیبلٹی فیکٹر بہت زیادہ ہوتا ہے اور بغیر ثقیل لفاظی کے اپنی بات کو آسانی سے سمجھا دیتی ہیں ۔۔۔
کیا ہوگا زاشا اور بلال کی اس کہانی کا انجام؟
جاننے کے لیے پڑھیے” مقیاس”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *