“قوام”
تحریر : میمونہ صدف
تبصرہ نگار علی عبداللہ
“قوام “یعنی محافظ !! اللہ نے مرد کو عورت کا نگہبان بنایا ہے !! یعنی محافظ!! حفاظت کرنے والا !! اور مرد کی زمہ داری ہے اس کی نگہبانی – جس طرح عورت کا نان و نفقہ مرد کی ذمے ہے٫ اسی طرح اس کی حفاظت بھی” قوام “کی ذمہ داری ہے- مگر ہمارے ہاں اکثر مرد یہ بھول جاتے ہیں- کیسا منافق معاشرہ ہے نا ہمارا!! عورت اگر گھر سے باہر نکال کر کام کرتی ہے تو اس پر آوازیں کسی جاتی ہیں٫ طعنے کسے جاتے ہیں مگر جب اسی عورت کو قوام یعنی محافظ کی ضرورت ہوتی ہے٫ تب ہمارے نکھٹو مرد گھر بیٹھے رہتے ہیں اور مجبورا عورتوں کو اکیلے نکلنا پڑتا ہے –
میمونہ صدف کا انداز تحریر بہت خوبصورت ہے ان کی تحریر میں دیے گئے معاشرتی پیغام ان کی تحریر کو اور بھی خوبصورت بنا دیتے ہیں اللہ کی رضا کوہر کام میں مقصود رکھنا ان کی ہر تحریر کا حصہ ہے –
کہانی نزہت کی ہے جس کی “قوام” یعنی اس کے محافظ اس کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار نہیں- نزہت کے والد کی شادی اس کی دادی اس کی ماں سے زبردستی کروا دیتی ہیں- اس پوری کہانی میں جس کردار سے سب سے زیادہ نفرت ہوئی وہ نزہت کے والد تھے- نفرت ہے مجھے ان مردوں سے جن کی بات بات پہ غیرت جاگ اٹھتی ہے” مگر جو اپنی عورت کے لیے “قوام “تک نہیں بن سکتے جو اپنی بیٹی کو رلنے کے لیے سڑکوں پر چھوڑ دیتے ہیں اور یہ معاشرہ —
کیسا سنگدل معاشرہ ہے!! عورت کو کسی صورت جینے نہیں دیتا -عورت گھر سے باہر نکلے تو طعنے ہیں٫ گھر میں بیٹھی عورت محفوظ نہیں٫ باہر نکلی عورت محفوظ نہیں- نزہت کے والد اس کی والدہ کو چھوڑ دیتے ہیں اور نزہت کی والدہ مر جاتی ہیں- نزحت کا ایک بھائی ہوتا ہے- نزہت اخراجات پورے کرنے کے لیے اکیڈمی پڑھاتی ہے- اس کو روز رات کو اکیڈمی سے واپس آنا ہوتا ہے اور اس کا بھائی نہ اسے چھوڑنے جاتا ہے اور نہ ہی اسے لینے آتا ہے -مجبورا ایک اس کا سٹوڈنٹ ارسلان اس کو گھر چھوڑنے آتا ہے -محلے والے طعنے سکتے ہیں مگر وہ بے پروا رہتی ہے- ارسلان کی جو کہانی ہے اسے پڑھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں- کہانی میں آگے کیا ہوگا؟ اصل قوام کون ہوتا ہے؟ جاننے کے لیے پڑھیے!! ” قوام” میمونہ صدف کے قلم سے-
Qawam by Memoona Sadaf













Leave a Reply