Noor ul qaloob complete by Tanzila Riaz

Noor ul qaloob complete by Tanzila Riaz

Noor ul qaloob complete by Tanzila Riaz

”نورالقلوب “
تحریر : تنزیلہ ریاض
تبصرہ : علی عبداللہ
نورالقلوب— دل کا نور — روح کی بصیرت
تنزیلہ ریاض کو میں نے ”عہد الست “  سے پڑھنا شروع کیا- منفرد اسلوب ان کی تحریر کی پہچان ہے – ایک فلسفہ , ایک حکایت ان کی کہانیوں کا خاصہ ہے – کہانی ہے ”نور “ کی تلاش میں نکلنے والے لوگوں کی چاہے وہ صندل بی بی ہوں یا لاریب یا خوش الحان – سب کی زندگیوں کا مقصد جانے انجانے میں نور کی تلاش تھی-
وہ نور جو اللہ کے قرب میں ہے- وہ نور جو اللہ کے کلام میں ہے لیکن شیطان ہمارا دشمن ہمیں بہکاتا ہے صراط مستقیم پر چلنےسے جیسے اس نے صندل بی بی کو بہکا دیا- جو نور کے راستے پر چلتے چلتے علم کے تکبر کی گہری دلدل  میں پھنس گٸیں- اسی لیے تو تکبر سے منع کیا گیا ہے کہ یہ انسان کو جونک کی طرح چمٹ جاتا ہے- جیسے صندل بی بی اپنی نیکی کے زعم میں سب کو گناہ گار اور غلیظ سمجھنے لگیں اور یہیں سے ہوتی ہے بربادی کی شروعات – جب انسان اعتدال کا راستہ چوک جاٸے- جب اللہ کی توفیق کو وہ معاز اللہ اپنا کمال سمجھے   اور زندگی برباد ہوٸی داود کی – وہ داود جو شیریں سے محبت کرتا تھا – وہ شیریں جس نے داود کی زندگی کو ایک نٸی جہت دی – وہ شیریں جس نے داود کی زندگی مکمل کی مگر اسی شیریں نے صندل بی بی کے روپ میں داود کو تنہا چھوڑ دیا – داود کی غلطی کو سزا بنادیا- اس نے وہ نوکری بھی چھوڑدی مگر وہ اسے ناپاک اور حقیر سمجھ کر چھوڑ گٸیں,  لیکن پیچھے رہ جانے والوں میں صرف داؤد تو نہیں تھا- داؤد اور شیری کی ایک بیٹی بھی تو تھی لاریب-  وہ لاریب جس کے ماضی اور ذہن میں چلتی نفسیاتی جنگ نے اسے ذہنی طور پر بیمار بنا دیا- نور کے راستے کو چھوڑ کر اس نے غلط راستہ اپنا لیا- لیکن جسے اللہ صراط مستقیم پر چلانا چاہے اسے کون بہکا سکتا ہے؟ اللہ نے خوش الہان کو اس کی زندگی میں مسیحا  بنا کر بھیجا-
خوش الحان !!میرا سب سے پسندیدہ ترین کردار!! سمجھدار,  خوبصورت, اور سب  سے اہم بات لڑکیوں کا احترام کرنے والا- جس  کی زندگی میں لاریب ایک بن بلائے مہمان کی طرح داخل ہو گئی اور خوش الحان کی اپنے باپ سے شکایتوں میں ایک اور شکایت کا اضافہ ہو گیا- خوش الحان کا باپ- خان حبیب اللہ – ایک بٹا ہوا انسان — جس نے صندل بی بی کی خواہش پر سگی اولاد کو سولی پر چڑھادیا- جنہوں  نے ہر وہ کام کیا جس سے وہ صندل بی بی انہیں پسند کریں – لاریب کو بچانے کے پیچھے بھی یہی محرک تھا اور اسی لیے خوش الحان باپ سے دور ہوتا چلا گیا- حبیب اللہ کی گلے سے بےاعتناٸی اسے خوب کھلتی لیکن حبیب اللہ بھی تو دل کے ہاتھوں مجبور تھے – جس میں صندل بی بی کروفر سے براجمان تھیں اور دل کی دنیا ویران رہی گلے کی-
گلے — حبیب اللہ کی بیوی اور خوش الحان کی رازدار !! سگی ماں نہ سہی پر اس سے بڑھ کر تھی – جس نے لاریب کو اس وقت سنبھالا جب سب نے لاریب کو چھوڑ دیا- لیکن یہ راستہ آسان تو نہیں ہوتا- حق کی معرفت کا– نور کی کھوج کا — لغزشیں تو اس راہ کے مسافروں کا مقدر ہیں کہ یہی تو ہے آزماٸش کہ کون نور کے اس راستے سے بہکتا ہے اور کون ثابت قدم رہتا ہے ؟ اور کون ہے جو بہکنے کے بعد سنبھل جاتا ہے جیسے زہرہ !! نورالقلوب میں صندل بی بی کی بےجا سختیوں اور خدیجہ کی چالاکیوں نے اسے بہکا دیا ,اور وہ شیطان کے بہکاوے میں آ گٸی, لیکن اللہ نے اسے ہدایت کے لیے چن لیا تھا – اسی لیے تو دین میں شدت پسندی ممنوع ہے کہ یہ بغاوت پر اکساتی ہے اور اسلام سے بغاوت کا نتیجہ تو صرف رسواٸی ہے-
کہانی ہے انسانی نفسیات کی ہیچیدگیوں کی –
گر کر سنبھلنے کی –
ایک نٸی اور خوشگوار شروعات کی –
دل کے نور کے سفر کی – وہ نور جس سے زندگیاں روشن ہو جاٸیں – وہ نور جو دلوں کو تقویت دیتا ہے – امید کا راستہ دکھاتا ہے – ایک جملہ پورے ناول کا خلاصہ تھا – ”اگر اللہ پر صرف اللہ والوں کا حق ہوتا تو انبیا کے علاوہ کوٸی نورالقلوب کا حقدار نہ ٹہرتا-“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *