Hum chirian tore aangan ki by Fariha Arshad

Hum chirian tore aangan ki by Fariha Arshad

 Hum chirian tore aangan ki by Fariha Arshad 

Novlet name_ Hum chirian tore aangan ki” published in Khwateen digest June 2001
Writer _ Fariha Arshad
Pages 20_ Download link 👇

Feudal system based nice heart touching c family story hai with mature writing
must read 🌹🌹

Review by Ali Abdullah 🌹

ہم چڑیاں تورے آنگن کی”
خواتین جون 2001ء
تحریر:  فارحہ ارشد
تبصرہ :  علی عبداللہ
بیٹیاں ۔۔ اللہ کی رحمت اور آنگن کی چڑیاں ۔۔۔ دھنک رنگ تتلیاں ۔۔۔ لیکن کیسی عجیب رسم کے کہ اسی بیٹی کو بوجھ سمجھا جاتا ہے  ۔۔۔ کبھی “کاری”  تو کبھی “تارک”  کے ذریعے ، اسے  ایک کالے کمرے میں قید کر دیا جاتا ہے ۔۔ اور وہ ساری عمر اسی کمرے کی تاریک دیواروں کو بے بسی سے تکتے رہتی ہے اور  پھر اس دنیا سے خاموش لب لیے رخصت ہو جاتی ہے ۔۔۔۔ اور اگر بغاوت کر بیٹھے تو غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہے ۔۔۔
قصہ ختم ۔۔۔ لڑکی ہی تو  تھی اور شاہ حویلی میں تو لڑکیوں بھری ہوئی تھیں ۔۔۔۔ خاموش چہرے ، مایوس آنکھوں والی لڑکیاں جو مردوں کے آنے پر سہم جاتیں ۔۔۔ وہ آنگن جو کچھ دیر پہلے قہقوں سے گونج رہا ہوتا ، وہاں جاڑے کی سرد رات سی خاموشی چھا جاتی ۔۔
کیسی عجیب رسم ہے کہ کبھی نعوز باللہ قرآن سے شادی اور کبھی تارک کے ذریعے لڑکیوں سے ان کا بنیادی شادی کا حق چھین لیا جاتا ہے ۔۔۔
اور پھر یہی محرومی کبھی مرگی کی صورت میں جھلکتی ہے تو کبھی شیزوفرنیا ۔۔۔
جیسے شہر بانو سے ان کا حق چھین لیا گیا ۔۔۔
اور اس گھٹن زدہ حویلی میں بغاوت کی در نجف نے ۔۔ اور بغاوت کا انجام بھی بھلا موت کے سوا کچھ ہو سکتا ہے ۔۔۔
اور اس حویلی کا ہی ایک اور کردار رباب ۔۔۔ جس کے ذہن میں باغی سوچیں نمو پانے لگیں ۔۔۔
اپنے بھائیوں کے دہرے معیار اسے حیران کرنے لگے ۔۔۔
آنگن کی تتلیوں کے ساتھ ہوئے ظلم اسے پریشان کرنے لگے ۔۔
اور تب اس نے بھی بغاوت کا راستہ اپنایا ۔۔۔
کیا ہوگا رباب کی بغاوت کا انجام ؟
جاننے کے لیے پڑھیے ” ہم چڑیاں تورے آنگن کی” ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *