Mehroo by Rukhsana Nigar Adnan

Mehroo by Rukhsana Nigar Adnan

Mehroo by Rukhsana Nigar Adnan

“مہرو “
خواتین دسمبر 2004ء
تحریر: رخسانہ نگار عدنان
تبصرہ نگار: علی عبداللہ
کسی بھی ذہنی طور پر معذور انسان سے بظاہر سب ہی ہمدردی کرتے ہیں لیکن کہیں نہ کہیں اس انسان کی معذوری ہمیں بہت کھٹکتی ہے اور ہمارا بس نہیں چلتا کہ اس کی معذوری کو زندگی بھر کا جرم بنا دیں ۔۔۔
کہانی ہے مہرو کی ۔۔ وہ مہرو جو دماغی کمزوری کا شکار تھی ۔۔ جس کا وجود اس کے بھائیوں اور بھابیوں کو کھٹکتا ۔۔
اور سارہ کی شادی شدہ زندگی کی شروعات ہی تلخ واقعے سے ہوئی اور اس تلخ واقعے نے اس کہ دل میں مہرو کے لیے کدورت پیدا کردی ۔۔۔
لیکن سارہ کے دل میں موجود نفرت اس وقت راسخ ہوئی جب مہرو نے اس کے بچے کو نقصان پہچانے کی کوشش کی ۔۔۔
اور یوں مہرو اس کے لیے بوجھ بنتی گئی ۔۔۔
کیا سارہ کو کبھی اپنے رویے کا احساس ہو پائے گا ؟
جاننے کے لیے پڑھیے “مہرو “
اختتام بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دینے والا ہے کہ بعض دفعہ جن لوگوں کو ہم بوجھ سمجھتے ہیں ، وہی ہمارے لیے چھپی ہوئی رحمت ثابت ہوتے ہیں ۔۔۔۔
رخسانہ آپی کے مخصوص انداز تحریر میں لکھی گئی حساس تحریر۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *