Mohabbat ho bhi sakti thi by Nayyar Faheem Khan
Published in Shua digest February 2006
Pages_24
Childhood nikah based hai🙂💕
” محبت ہو بھی سکتی تھی “
شعاع فروری 2006ء
تحریر: نیر فہیم خان
تبصرہ نگار: علی عبداللہ
محبت ! دنیا کا سب سے خوبصورت اور دلکش احساس جو انسان کو مسحور کر دیتا ہے ۔۔ اور اس سفر کے راہی ایسے راستے پر چل پڑتے ہیں جو دلفریب ہونے کے ساتھ ساتھ کٹھن بھی ہے ۔۔۔
محبت بے خودی کی کیفیت ہے ۔۔۔۔ دو اجنبی محبت کے رشتے میں بندھ جائیں تو دل ایک ساتھ دھڑکنے لگتے ہیں ۔۔۔
لیکن جب محبت میں انا آ جائے تو محبت دم توڑنے لگتی ہے ۔۔۔۔
اسی لیے تو ہر معاملے میں ہر اعتدال کا حکم دیا گیا ہے ۔۔۔ بالکل اسی طرح جذبوں اور رشتوں میں بھی توازن بہت ضروری ہے ورنہ یہی چھوٹی چھوٹی تلخیاں رشتے کو کڑوا کرنے لگتی ہیں ۔۔۔۔
کہانی ہے محبت کی ۔۔۔ وہ محبت جو عبدالہادی کو عیشا سے ہو گئی تھی ۔۔۔
بچپن سے نکاح کے مقدس رشتے میں تو تھے ہی لیکن لڑتے جھگڑتے ، نوک جھوک کرتے کب محبت کے خوبصورت رشتے میں جڑے ، دونوں کو خود ہی پتہ نہیں چلا ۔۔۔
اور یہ ہلکی پھلکی نوک جھوک تو رشتے کا حصہ ہوتی ہے ۔۔۔
لیکن اگر آپ یہ توقع کرتے ہیں کہ ہم سفر کے ساتھ آپ کی مکمل عادات میل کھائیں تو ایسا ہونا تو ممکن نہیں ہے کہ کہیں نہ کہیں تو فطرت کا تضاد ہوتا ہی ہے۔۔۔
لیکن اسی باریک نکتے کو ایماء نہ سمجھ سکی اور آئیدون کو گنوا دیا ۔۔۔۔
بہت خوبصورت کہانی ہے۔۔۔ اس تبصرے کے توسط سے میں نیر فہیم تک یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہوں کہ وہ دوبارہ لکھنا ضرور شروع کریں۔۔۔
بہت خوبصورت کہانی ۔۔







Leave a Reply