Alif by Umaira Ahmad

Alif by Umaira Ahmad

Alif by Umaira Ahmad

”الف “
تحریر : عمیرہ احمد
تبصرہ : علی عبداللہ
الف ! یہ صرف ایک حرف نہیں اس کاٸنات کی بنیاد ہے- الف سے اللہ اور الف سے انسان- الف کی کہانی بھی اللہ اور انسان کے تعلق کی ہے یعنی اللہ اور اس کے بندے کی -اللہ اور بندے کا تعلق تمام تعلقات سے انمول اور پیارا ہے –
کچھ لوگ اس تعلق میں ساری زندگی گزار دیتے ہیں اور اللہ انہیں چن لیتا ہے جیسے عبدالعلی –
جنہوں نے ساری عمر اللہ کی عبادت اور اس کے مبارک ناموں اور خطاطی میں گزار دی-
کچھ لوگ اللہ سے عشق کرتے کرتے بھٹک جاتے ہیں اور بندے سے عشق کر بیٹھتے ہیں- ہاٸے بے وقوف! عشق تو ہے اللہ سے اور نتیجہ صرف رسواٸی نکلتی ہے کیونکہ بندے کے پیچھے بھاگیں تو مقدر ٹھوکر ہی بنتی ہے -جیسے طلحہ عبدالعلی کا مقدر بنا ! اللہ سے محبت کرتے کرتے بھٹک گیا اور حسن جہاں سے عشق کر بیٹھا- اللہ کے نام کی خطاطی کرتے کرتے کب اس نے حسن جہاں کا چہرہ کینوس پر اتارا ہی نہ چلا ؟ اور جب پتہ چلا تو بہت دیر ہو چکی تھی- ایک جملہ پوری تحریر پر حاوی تھا جب طلحہ حسن جہاں سے کہتا ہے کہ تم نے دنیا چھوڑی ہے اور جو میں چھوڑ بیٹھا ہوں وہ میرا اللہ ہے -بندہ تو اللہ کو چھوڑ دیتا ہے لیکن اللہ بندے کو کبھی خالی نہیں چھوڑتا جیسے اللہ نے طلحہ عبدالعلی کو ہدایت دے دی-
حسن جہاں ایک طوائف! رقاصہ !جسے طلحہ عبدالعلی نے اپنا لیا وہ تو اپنے ماضی کو چھوڑ کر بھول گئی لیکن ماضی اسے نہیں بھولا- جونک کی طرح اس کی جان کو چمٹ گیا اس کی ازدواجی زندگی کو کھا گیا –
مگر اللہ تو توبہ قبول کرنے والا ہے-
وہ تو بخشنے والا ہے-
اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انسان کا ماضی کیا ہے؟ طلحہ عبدالعلی نے تو
حسن جہاں کو چھوڑ دیا ,مگر اس کا رب ,اس کا خالق, اس کا اللہ اسے مل گیا اور اس نعمت کے آگے تمام خسارے ہیچ ہیں –
قلب مومن! طلحہ عبدالعلی اور حسن جہاں کا بیٹا- اس کہانی کا مرکزی کردار جو مومن ہونے کے باوجود بھٹک گیا تھا – جو اللہ کو خط لکھتا ہے جو ماں سے بے حد محبت کرتا تھا-بھٹکتا تو مومن ہی ہے کیونکہ بھٹک کر ہی تو مومن توبہ کرے گا جو اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے -دنیا کی رنگینیوں میں بھٹک کر وہ ایک فلم سٹار بن چکا ہے اور صحیح اور غلط کی تمیز کھو چکا ہے-
پھر اس کی زندگی میں مومنہ سلطان آتی ہے جو اس کے غرور کے بت کو پاش پاش کر دیتی ہے –
مومن کا جو اللہ سے تعلق کا سفر ہے وہ بہترین تھا کہ کیسے اس نے بتوں کو توڑ کر اللہ سے رجوع کیا- جی ہاں بت کیونکہ اللہ سے دور کرنے والی ہر چیز بت ہی تو ہے, چاہے وہ اداکاری ہو ,خواہشات ,ہمارے رشتے یا کچھ اور-
مومنہ سلطان اپنی زندگی کی مشکلات سے جدوجہد کرتی لڑکی ,جس نے مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے اداکاری شروع کی, جس کی کل متاع اس کے ماں باپ کی ماضی کی کامیابیاں تھی- اس پر زندگی نا مہربان تھی – سلطان اور ثریا کی کامیابیاں – اسی گھر کے کونے میں ایک ایسا نفس تھا جس کی سانسوں کے لیے جدوجہد مومنہ کر رہی تھی –
لیکن جو قسمت میں ہو وہ تو ہو کر رہتا ہے -جس کی سانسوں کے لیے مومنہ جدوجہد کر رہی تھی اللہ نے اسے اپنے پاس بلا لیا تو مومنہ کے پاس زندگی کا مقصد ہی ختم ہو گیا, لیکن اللہ نے اسے اپنے دین کے لیے چن ہی لیا تھا اس ناپاک زندگی سے نکل گئی-
سلطان ! حسن جہاں کا سب سے بڑا محبوب! حسن جہاں اس کی زندگی سے تو نکل گئی مگر اس کے دل سے کبھی نہ نکل سکی -سلطان کی کل متاع اس کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی حسن جہاں ہی تو تھی-
جہانگیر سلطان! انسان زیادہ تکلیف سے اس وقت گزرتا ہے جب ماضی میں وہ بہت کامیاب ہو اور حال میں اس کے لیے ایک سانس تک لینا دشوار ہو اسی تکلیف اور کرب سے جہانگیر سلطان بھی گزر رہا تھا –
جو ماضی میں کٸی تمغے جیت چکا تھا اور اب زندگی کی آخری سانسیں گن رہا تھا-
اللہ اور بندے کے تعلق کو بیان کرتی کہانی –
”الف “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *