Story review 👇
میں لکھتی تو ایسا لکھتی ۔ پر لکھ نہیں سکتی الفاظ ختم ہو جائیں گے ۔ آپ لوگ ارش کا لکھا پڑھ لیں ۔
ناول : سفال گر
مصنفہ : بشریٰ سعید
دو مختصر اقتباسات ۔
انتساب :عظیم روسی ادیب ” لیو ٹالسٹائی کے نام ”
” یہ میری قیمت ہے جو تم نے مقرر کی ؟ ایک اہم موقعے کے عوض مجھے بیچ دیا ۔ ترازو کے ایک پلڑے میں ایک اہم موقع اور دوسرے پلڑے میں غیر اہم پرنیاں آئزک ۔ جس پلڑے میں پرنیاں تھی وہ جھکا ہی نہیں ۔ تمہاری پیمائش کو کیا الزام دوں ۔
ایک پیمائش میں نے بھی کی تھی ۔ ایک پلڑے میں میری پوری دنیا اور میرا ایمان دوسرے پلڑے میں ایڈم گرانٹ ۔
تمہارے والا پلڑا اٹھا ہی نہیں ۔ یہ تمہاری قیمت ہے جو میں نے طے کی ۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہم تب خدا سے رجوع کرتے ہیں جب دنیا ہمیں رد کر چکی ہوتی ہے ۔ تمام دروازوں سے دھتکارے جاتے کے بعد ہم خدا کے دروازے پر دستک دیتے ہیں ۔ خدا ہمارا سیکنڈ آپشن کیوں ہوتا ہے ؟
ہماری اولین ترجیح دنیا ہوتی ہے اور حیرت کی بات ہے کہ ہم اس پر زرا بھی شرمندہ نہیں ہوتے ۔ہمیں لگتا ہے کہ ترتیب کے ردو بدل سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ کتنی بڑی بھول ہے ۔ ترتیب ہی تو اصل شئے ہے ۔
کون پہلے آتا ہے کون بعد میں کھیل کا یہ بنیادی اصول ہی نظر انداز کر دیا گیا تو باقی کیا رہ جاتا ہے ؟
صرف بھگدڑ اور بدحواسی ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب کے آخر میں عنیزہ سید کے تبصرے میں سے کچھ لائنیں۔
” بشریٰ سعید کا ناول “سفال گر ” انسانوں کی داستان ہے
۔ انسانی معاشروں کے بگاڑ اور بناؤ کی کہانی ہے ۔ انسانی معاشروں میں چڑھاؤ اور اتار کا بیان ہے ۔ بشریٰ سعید معاشرے کے کمہار کو سفال گر کا نام دیتی ہیں ۔ معاشرے کا یہ کمہار معاشرے میں کئی رویوں میں موجود ہے ماں ، باپ ، بیٹی ، استاد ، راہنما ۔۔۔۔۔ ہر روپ میں یہ کمہار شخصتیں گھڑنے میں مصروف رہتا ہے ۔ کبھی کوئی شخصیت مکمل انسانی صفات کے ساتھ سامنے آجاتی ہے تو کبھی سفال گر سے کوئی چوک ہو جاتی ہے ۔
کبھی حالات نا سازگار ملتے ہیں تو کبھی جبلت ہاتھوں کی
شافی پر حاوی ہو جاتی ہے ۔ ان میں سے کبھی سفال گر کے ہاتھوں گھڑی جانے والی شخصیت بے ڈھب بھی ہو جاتی ہے ۔ ”
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرنیاں آئزک ، ایڈم گرانٹ ، البا مارسیلو،صوفیہ ، عمر احمد ابراہیم اور حکیم بیگم کی کہانی ۔
میرے پسندیدہ اور یادگار ناولز کی فہرست میں ایک اور اضافہ ۔
میرا پہلا ناول جس کے اختتام پر میں نے اسے چوم کر رکھا ۔
بہت شکریہ ” بشری سعید جی ”
#ارش







Leave a Reply