Ba awiz soo rupay sikka e rajul waqat by Naseem Sehar Qureshi
Review by Areesha Zaidi 🌹
خواتین ڈائجسٹ اگست 1986
بعوض سو روپے سکہ رائج الوقت” از نسیم سحر قریشی
تحریر کے عنوان سے ہی کہانی کا اندازہ ہو جاتا ہے، اور یہ کہانی بھی بالکل اپنے عنوان کی طرح ایک ایسی لڑکی کی زندگی کے گرد گھومتی ہے جس کا نام درشہوار ہے۔ توصیف احمد اپنی بیوی کے اصرار پر اسے اس وقت خرید لیتے ہیں جب وہ پیدا ہوتی ہے، حالانکہ توصیف احمد کے پہلے سے اپنی پہلی بیوی سے دو بیٹے بھی ہوتے ہیں۔
درشہوار کی پرورش احمد ولا میں ہوتی ہے، لیکن اس کی والدہ کے انتقال کے بعد اس کی زندگی کی اصل حقیقت سامنے آتی ہے۔ بعد ازاں اس کے والد اور بھائی اس کی شادی ایک عمر رسیدہ شخص سے کرنا چاہتے ہیں۔ شدید احتجاج کے بعد وہ گھر چھوڑ دیتی ہے اور لاہور پہنچ جاتی ہے۔
ٹرین کے سفر کے دوران ہیرو اسامہ اسے مشکوک نظروں سے دیکھتا ہے، پھر حالات کچھ یوں بنتے ہیں کہ وہ اسے اپنے گھر لے جاتا ہے اور دونوں کا نکاح ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کے سگے والد اور بھائی اس کی زندگی میں کب اور کیسے دوبارہ آتے ہیں، یہ جاننے کے لیے پوری کہانی پڑھنا ضروری ہے۔







Leave a Reply