Parbat ke us paar kaheen part(1) by Nayab Jailani

Parbat ke us paar kaheen part(1) by Nayab Jailani

 Parbat ke us paar kaheen part(1) by Nayab Jailani

ناول:پربت کے اس پار
صنف:دشمنی،انتقام،غیرت کے نام پر قتل،حادثاتی شادی،ریونج میرج،خفیہ نکاح
چالیس اقساط پر مشتمل طویل ناول فروری 2015 سے شروع ہوا
اور مارچ 2018 میں اختتام پذیر ہوا۔
سرما کی طویل ترین،کہرآلود اور اوس میں بھیگی راتوں میں اگر آپ کسی طویل کہانی کی تلاش میں ہیں،یا نایاب جیلانی آپکی کی پسندیدہ راٸٹر ہیں یا میری طرح آپکو بھی فیملی کہانیاں پڑھناپسند ہےتو یہ ناول آپ کے لیےہے۔
کہانی ہے پربتوں کے اس پار کی،پربتوں،قبیلوں اور اونچے ٹیلوں کا سنتے ہی پہلا تاثرخوبصورت پٹھانوں،بہتے جھرنوں اور نسل در نسل چلتی دشمنیوں کا آتا ہے۔
یہاں بھی ایسا ہی ہے۔
کہانی کا اہم ترین کردار سردار کبیر خان بٹو،جو سرکاری اراضی پر ناجاٸز قبضے کرتا ہے،خاندانی جاٸیداد کو خود تک محدود رکھنا چاہتا ہے،دولت کی لالچ میں قتل وغارت سے گریز نا کرنے والا،ماضی کا جابر سردار۔۔حال میں اپنی آدھی فرنگن بیٹی نیل بر کبیر سے دیوانہ وار محبت کرتا ہے۔
جہاندار،نیل بر کا محافظ ہے،جس کا پورا خاندان سردار بٹو کیوجہ سے ختم یا گم شدہ ہو چکا ہے۔
سردار بٹو،جہاندار کی حقیقت سے لاعلم ہے،اور نیل بر کی ایک غلطی کے بعد،جرگے کے فیصلے سے بچنے کے لیے،نیل بر کی شادی جہاندار سے کروا دیتا ہے۔
بہت طویل کہانی ہے،بہت کردار ہیں،اور سب آپس میں کہیں نا کہیں ایک دوسرے سے ٹکراتے رہتے ہیں،بالواسطہ یا بلاواسطہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوۓ ہیں۔
پربتوں کے اس پار،بیال میں منہ پھٹ سی عشیہ ہے،تو وہی سردار کی حویلی میں ڈری سہمی سی حمت ہے،نرم خو شاہور ہے تو اسکا بالکل الٹ روایتی جاگیردار بھاٸی صندیر بھی سردار کی حویلی کا ایک اہم ستون ہے۔
بیال کا چلبلا ڈاکٹر ہیام اگر لاہور میں طعینات ہے،تو لاہور کا آرکیالوجسٹ اسامہ یہاں بیال کی خاک چھان رہا ہے۔
اسلام آباد کا امام اگر سروٸیر بن کر بیال،میاندم،منگورہ اور گلگت کی پہاڑیوں پر جیب دوڑا رہا ہے،تو لاہور میں چاچیوں کا عتاب سہتی نشرہ اب بیال میں ڈاکٹر ہیام کے گھر پہنچ چکی ہے۔
سب کی کڑیاں سردار کبیر بٹو سے ملتی ہیں،اسکی ناانصافیاں،ظلم اور جابرانہ و تسلط پسند شخصیت کہانی اور کرداروں کو بکھیر چکی ہے،بکھری ہوٸی کہانی ہے آہستہ آہستہ سمٹتے اختتام کو آۓ گی۔
سب کا اختتام اچھا ہے ماسواۓ جہاندار کے
جہاندار جس کی زندگی کا مقصد ہی سردار بٹو سے بدلہ لینا تھا،مگر اسکا انتقام اسکے ہاتھوں پورا نا ہو سکا،بلکہ تقدیر کے ہاتھوں سردار بٹو کوبڑی اذیت ناک شکست ملتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *