Review by Ali Abdullah 🌹
“گونج”
خواتین فروری ٢٠٢٦ء
تحریر :سمیرا حمید
تبصرہ نگار: علی عبداللہ
سمیرا حمید کے قلم سے نکلی ایک اور تکلیف دہ کہانی۔۔۔
سمیرا حمید کا لکھا ہمیشہ مجھے حیران کر دیتا ہے ۔۔۔
امید لکھتی ہیں تو زندگی خوبصورت لگنے لگتی ہے اور تلخ لکھتی ہیں تو قاری کے دل کو جیسے مسل دیتی ہیں۔۔۔
“گونج “کہانی ہے ان تمام لڑکیوں کی جن کی ناکام ازدواجی زندگی کو ان کا سب سے بڑا گناہ بنا دیا جاتا ہے ۔۔
وہ بیٹیاں گھر کے کسی ایک کونے میں ڈری سہمی ،بھائیوں کی باتیں سنتی ،بھاوجوں کے ماتھے کے بل گنتی اور بھتیجوں کی خدمت کرتے کرتے ساری زندگی گزار دیتی ہیں اور پھر بھی انہیں وہ مقام نہیں مل پاتا جو ان کا حق ہے۔۔۔۔
اپنے ہی باپ کے گھر میں رہتے ہوئے اپنے شرعی حق سے محروم رہتی ہیں ۔۔۔
دو وقت کی روٹی کے لیے بھی انہیں سسکنا پڑتا ہے، لیکن یہ تو آپ کے اپنے اختیار میں ہے کہ آپ ظلم پر خاموش رہ کر خود پر ظلم کرتے ہیں، یا محنت سے اپنی زندگی کو بدلتے ہیں جیسے عینی نے اپنی زندگی بدلی۔۔۔
وہ عینی جس کی زندگی اس کی طلاق نے جہنم بنا دی ۔۔۔
جس پر اس کے اپنے گھر کی چھت تنگ کی گئی۔۔۔
اور تب عینی نے اس دلدل سے نکلنے کے لیے ایک نیا راستہ چنا۔۔۔
محنت کا راستہ ۔۔۔
امید کا راستہ ۔۔۔
عینی کی بھاوجوں کو کیا خبر تھی کہ جو کتابیں وہ دن رات رٹتی رہتی ہے ، ایک دن وہی کتابیں اس کے لیے اس جہنم سے نکلنے کا راستہ بن جائیں گی ۔۔۔
ایک دن انہی کتابوں کے سہارے وہ ایک نئی زندگی شروع کرے گی ۔۔۔
ایک سطر بہت خوبصورت تھی کہ جس گھر میں عینی جیسی لڑکیوں کا خیال رکھا جاتا ہے، وہ گھر کبھی چوہوں کا مسکن نہیں بنتا ۔۔۔
اور ایسے تمام گھر جن کی بنیادوں میں کسی کی آہ ہو ، ان کے مقدر میں بربادی ہی آتی ہے۔۔۔
تکلیف دہ لیکن امید کا پیغام دیتی کہانی۔۔۔






Leave a Reply