Hum aise marg e talab bhi na thay by Fariha Arshad

Hum aise marg e talab bhi na thay by Fariha Arshad

Hum aise marg e talab bhi na thay by Fariha Arshad

“ہم ایسے مرگ طلب بھی نہ تھے “
شعاع مارچ 2001ء
تحریر: فارحہ ارشد
تبصرہ نگار: علی عبداللہ
فارحہ ارشد کے قلم سے نکلی ایک بہت خوبصورت کہانی۔۔
فارحہ ارشد کی اس سے پہلے بھی کہانیاں پڑھی ہیں ، مگر اس کہانی میں جو منظر نگاری انہوں نے کی ہے بہت خوبصورت۔۔۔
سب سے پہلے تو داد لفاظی پر بنتی ہے۔۔۔
اتنی حسین اور دلکش لفاظی 👏👏👏۔۔۔
کہانی ہے تکون کی۔۔۔
لخت حسنین ، ماریہ امام اور لیلی سکندر کی تکون ۔۔۔
ایک تھی ماریہ امام ۔۔۔ بے پناہ حسین ، باوقار اور اپنے حسن سے سب کو مسحور کر دینے والی۔۔۔
جس کی خوبصورتی کو بیان کرنے کے لیے لیلی کے پاس الفاظ کم پڑ جاتے تھے۔۔۔
ایک تھی لیلی ۔۔۔ جسے عمر کے واضح فرق کے باوجود لخت حسنین سے محبت ہو گئی کہ محبت عمر کہاں دیکھتی ہے۔۔۔۔
اور اس تکون کا تیسرا کردار تھا لخت حسنین۔۔۔
جو محبت کی کشمکش میں الجھ گیا ۔۔۔۔
کیا ہوگا اس تکون کا انجام جاننے کے لیے پڑھیے ہم ایسے مرگ طلب بھی نہ تھے۔۔
ایک بات میں ضرور کرنا چاہوں گا کہ کہانی میں کچھ چیزیں مجھے قابل اعتراض لگیں ۔۔۔
جیسے لخت حسنین کے کردار کا اچانک تبدیل ہونا ۔۔۔
اور ماریہ امام کا کردار بھی مہبم سا تھا۔۔۔
اگر میں یہ کہوں کہ اس کہانی میں سارے نمبر ہی لفاظی اور منظر نگاری کے ہیں تو بے جا نہیں ہوگا۔۔۔
دوسرے لفظوں میں اس کہانی نے مجھے چکرا ہی دیا ہے 😌۔۔
لیکن اتنی شاندار لفاظی پڑھ کر مزہ آ گیا 💕۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *