Review by Ali Abdullah 🌹
“بانو ”
شعاع جنوری 2026ء
تحریر: سمیرا حمید
تبصرہ نگار: علی عبداللہ
سمیرہ حمید کہ مخصوص پر لطف اور شیریں انداز تحریر میں لکھی گئی تحریر جسے بڑھ کر بہت مزہ آیا ۔۔۔
سچ کہوں تو” مشک بام ” کی یاد آ گئی۔۔۔
وہی لفاظی ، وہی لاہور، وہی پرانی گلیاں اور ان گلیوں میں بسی کہانیاں ۔۔
سمیرا حمید کی منظر نگاری کی کیا ہی تعریف کروں۔۔۔
اتنی خوبصورتی سے لکھتی ہیں کہ ہمیں اپنا آپ لاہور کی ان گلیوں میں گم محسوس ہوتا ہے۔۔۔
کہانی ہے بانو کی۔۔۔ شوخ ، چنچل ، الہڑ لڑکی جو کھل کر جینا چاہتی ہے۔۔۔ جو آزادی سے شالیمار باغ جانا چاہتی ہے ، جو سہیلیوں کے ساتھ انارکلی جانا پسند کرتی ہے ، جس کے لیے سینما دلفریب خواب بھی ہے اور عیاشی بھی ۔۔۔
اور سینما جا کر تو بانو پر ایک الگ ہی دنیا کے دروازے وا ہوتے ہیں۔۔۔ خوبرو ہیرو درپن کی سحر انگیزی ، الہڑ پنے کی دلفریبی اور خوشی کا نشہ ۔۔۔
بانو کی سہیلیوں کے والدین کا اپنی بیٹیوں کے ساتھ بانو کا گھومنا پھرنا پسند نہیں لیکن بانو کو کس کی پرواہ ہے جب اس کے ابا اس کے ساتھ ہیں۔۔
لیکن اس کے ابا اس کے لیے اپنے دفتر میں نئی مصروفیت نکال ہی لیتے ہیں۔۔
اور یوں شرارتی اور شوخ بانو اپنے ابا کے ساتھ ان کے دفتر جا کر فرنگیوں کے زمانے کی فائلوں پر گرد جھاڑنے میں لگ جاتی ہے اور ایک دن آ ٹکراتے ہیں اشتیاق صاحب عرف کبوتر اور بھوت ۔ ۔
کیا ہوگا بانو اور اشتیاق کی کہانی کا انجام ؟
جاننے کے لیے پڑھیے “بانو ”
سچ کہوں تو مجھے بانو میں چراغ کی جھلک دکھائی دی ۔۔ وہی شوخی ،وہی چنچل پن ۔۔۔۔
بہت خوبصورت کہانی۔۔







Leave a Reply