Reshami girehn by Shumaila Dilebad
“ریشمی گرہیں “
شعاع اکتوبر 2025ء
تحریر: شمائلہ دلعباد
تبصرہ نگار: علی عبداللہ
گانٹھ چاہے دل میں لگے یا دماغ میں ، یوں ہی نہیں لگتی ۔۔۔ کئی ریشمی گرہیں مل کر اس گانٹھ کو بناتی ہیں ۔۔۔
نفسیات کی گرہ ، خود غرضی کی گرہ ، مجبوری کی گرہ، ظلم کی گرہ ، بے یقینی کی گرہ ۔۔۔
کیا کہوں اس کہانی کے بارے میں ۔۔ کہانی تھوڑی ہے یہ … نوحہ ہے شہلا جیسی کئی لڑکیوں کا ۔۔۔ جن کے والدین اپنی نفسیات سے مجبور ہو کر ان کی زندگی سے سارے خواب چھین لیتے ہیں ۔۔۔
اور بے رنگ تتلی بھی بھلا کبھی کسی نے دیکھی ہے ۔۔ بنا رنگوں کے تو تتلی مرجھا جاتی ہے ۔۔۔
بیلا جسے سفید رنگت کا جنون تھا ۔۔۔۔ صدیقی اور نعمانہ کے خوبصورتی کے جنون نے اسے ایک ایسی دوڑ کا مسافر بنا دیا جس کی منزل ہے ہی نہیں ۔۔۔
ہم کتنا ظلم کرتے ہیں خود پر اور خود سے جڑے رشتوں پر ۔۔
ہم کیوں یہ نہیں مان لیتے کہ شادی ہر انسان چاہے مرد ہو یا عورت اس کی بنیادی ضرورت ہے۔۔۔ فطرت سے بغاوت اور سرکشی کا انجام صرف تباہی ہے۔۔۔۔
کریئر اورینٹڈ ہونا غلط نہیں لیکن والدین کے اس ظلم پر ہم سب کیوں خاموش رہ جاتے ہیں جب وہ اس بھیڑ چال میں اپنی تتلیوں کے پر نوچ لیتے ہیں۔۔۔۔
کتنی غلیظ سوچ تھی صدیقی کی 💔۔۔۔۔ کہ وہ اپنی بیٹیوں کو کسی اور مرد کے ساتھ نہیں دیکھ سکتے تھے اور اس لیے انہوں نے اپنی بیٹیوں سے ان کا جائز حق چھیننا چاہا۔۔۔۔
لیکن خواہشیں بھی تو وہیں پنپتی ہیں جہاں پابندیاں ان کا گلا گھوٹنے پہ تلی ہوں ۔۔۔۔
صدیقی کے ظلم نے شہلا کو موت کے منہ میں پہنچا دیا۔۔۔
اور بیلا اس کا کیا قصور تھا…
اس نے تو باپ کے آگے محبت کو بھی قربان کر دیا تھا…. لیکن اس کے اپنے سگے باپ نے ہی اس کے کردار کے چیتھڑے اڑائے صرف اپنی غلیظ ذہنیت کی بنا پر۔۔۔۔ اور یوں خوف اور دہشت کے ساتھ بدکرداری اور بے یقینی کی گرہ بھی لگ گئی ۔
جس سین میں وہ اپنے آپ کو کالا کرتی ہے بہت ٹرامیٹک سین تھا۔۔۔۔
لیکن اللہ کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔۔۔۔ بیلا کی زندگی میں اللہ نے عبدالباری کو بھیج دیا جو شہلا کے لیے بھی مسیحا ثابت ہوا۔۔۔
وہ عبدالباری جس نے بیلا کو دوسری شہلا بنانے سے بچا لیا۔۔۔ ورنہ وہ بھی کسی دوسرے نعمان کہ شکنجے میں پھنس جاتی اور اپنی عزت گنوا بیٹھتی۔۔۔
شہلا نے اپنی جان تو داؤ پہ لگا دی لیکن بیلا کے لیے آزادی کا در کھول گئی۔۔۔
انیلا کے کردار کے لیے بھی خوشی ہوئی۔۔۔۔
اس قدر خوبصورت کہانی ہے کہ جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔۔۔
ایک اور پیغام جو مجھے بہت اچھا لگا وہ یہ ہے کہ زندگی میں بہت بار ہم بہت سے نفسیاتی مسائل سے لڑ رہے ہوتے ہیں۔۔۔ اندرونی جنگ ہمیں دیمک زدہ کیے جا رہی ہوتی ہے لیکن صرف اس خوف سے کہ لوگ ہمیں پاگل کہیں گے ہم اپنے علاج کی طرف توجہ نہیں دیتے۔۔۔
اگر صدیقی وقت پر اپنا علاج کروا لیتے اور نعمانہ بغاوت کر لیتیں تو شاید شہلا اور احسن بھی خوش و خرم زندگی گزار رہے ہوتے۔۔۔۔
کہانی مجھے اس لیے بھی بہت پسند آئی کہ حقیقت کے بہت قریب ہے ۔۔۔۔ آج بھی کتنی ایسے گھرانے ہیں جہاں لڑکیوں کو بغیر کسی وجہ کے شادی کے بغیر گھر بٹھا لیا جاتا ہے اور پھر اپنی دوستوں کو خوش ہنستا بستا دیکھ کر محرومی کا پودا تناور درخت بن جاتا ہے اور پورا وجود اذیت کے زہر سے نیل و نیل کر دیتا ہے ۔۔۔۔
اور کتنی ہی ایسے والدین ہیں جو محض جوان دکھنے کے چکروں میں خوبصورتی کے جنون میں مبتلا ہو جاتے ہیں جانے انجانے میں اپنی اولاد کو بھی اسی صحرا میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔۔
ایک بہت خوبصورت ناول ۔۔۔
شمائلہ آپی ایسی ہی ڈارک سی کہانیاں لکھتی رہیے ..







Leave a Reply