Review by Ali Abdullah 🌹
“نئی دلہن”
شعاع اگست 2025 ء
تحریر: سمیرا حمید
تبصرہ نگار : علی عبداللہ
یوں تو سمیرا حمید ہر موضوع پر کمال لکھتی ہیں لیکن بر صغیر سے پہلے کی کہانیاں اور دہلی، لکھنو اور آگرہ کی داستان اس خوبصورتی سے لکھتی ہیں کہ قاری عش عش کر اٹھتا ہے ۔۔۔۔
ادبی زبان، میٹھی چاشنی بہترین منظر نگاری اور رواں انداز قاری کو تحریر کے آخر تک سحر سے نہیں نکلنے دیتا ۔۔۔
یوں لگتا ہے کہ ہم بھی انہیں دریچوں ،جھروکے اور دالانوں میں کہیں گھوم رہے ہیں ۔۔۔
“نئی دلہن” کہانی ہے جہاں آرا اور گوہر کی۔۔۔
نند بھاوج کا رشتہ ہمیشہ منفی دکھایا جاتا ہے لیکن کیا اگر ایک نئی آنے والی بھاوج ہی نند کی خزاں سے بھری زندگی میں بہار کی تازہ ہوا کا پہلا جھونکا ثابت ہو ۔۔۔۔
جہاں آرا جس نے ایک حادثے کے بعد خوشیوں کو اپنے اوپر حرام سا کر لیا تھا ۔۔۔۔۔ وہ جہاں آرا جس کی زندگی میں سنہری سپنے تھے ، کسی کو تعبیر نہ ملی ۔۔۔
اور پھر بڑے بھیا کی زندگی میں آئی گوہر جو واقعی گوہر نایاب تھی ۔۔۔۔۔ جس کا خمیر ہی محبت اور بے غرضی سے گوندھا گیا تھا ۔۔
وہ جہاں آرا جس کا شادی پر سے اعتبار اٹھ گیا تھا، ہمایوں کی محبت نے اسے ایک نئے اور خوبصورت سفر کا راہی بنا دیا ۔۔۔
کہانی میں ایک اور بات جو مجھے متاثر کن لگی وہ تھی مکمل تفصیلات کہ ہر کردار کی ایک مکمل کہانی اور اس وقت کے حالات کی مکمل منظر کشی تھی جیسے منہاری ،بزاز ، اس وقت کے رسائل، کریم ، مامائیں اور فرنگیوں کا اثر ۔۔۔۔۔
گوہر اور جہاں آرا جب رسالے میں مکالمہ لکھ کے بھیجتی ہیں کہ خواتین کی تحریریں ان کہ اصل نام سے شائع ہوں وہ سین بھی بہت زبردست تھا ۔۔۔
گوہر کی محبت، اس کا خیال، اس کی جہاں آرا کے لیے فکر اور جہاں آرا کو دوبارہ زندگی کی طرف واپس لانا سب نے دل چھو لیا ۔۔
ایک بہت خوبصورت کہانی ۔۔







Leave a Reply