Ajarah Nasheen by Asia Raees Khan
“اجارہ نشین ”
خواتین دسمبر 2024ء
تحریر: آسیہ رئیس خان
تبصرہ نگار:علی عبداللہ
یوں تو ہر ماہ آسیہ رئیس خان کی کہانیاں پڑھتا ہوں لیکن ان کے پانچ سے چھ پرانے ناولز وقت کی کمی کے سبب نہیں پڑھ سکا۔۔۔۔ یوں ہی ان کے پرانے ناول ڈھونڈتے ڈھونڈتے مجھے “اجارہ نشین “ناول ملا اور ناول پڑھ کر دل سے واہ واہ ہی نکلا۔۔
اجارہ نشین یعنی کرائے دار ۔۔۔ کرائے کا گھر جسے عارضی ٹھکانہ سمجھا جاتا ہے ۔۔۔ دل کو ہر وقت یہ خیال ستاتا رہتا ہے کہ ہم کسی اور کی چھت کے نیچے رہ رہے ہیں۔۔۔ جس زمین پر ہم چل پھر رہے ہیں ہم اس کے مالکانہ حقوق نہیں رکھتے اور قانون کی رو سے ہم اس زمین کے مالک بن بھی نہیں سکتے۔۔۔
لیکن کیا قانون دو دوستوں کی محبت سے بالاتر ہو سکتا ہے ؟ اور دوستی بھی انمول اور خوبصورت۔۔۔۔
اسی دوستی کی لاج رکھتے ہوئے عبدالقیوم غازی نے اپنے دوست کو اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دے دی لیکن اس ساری کہانی کا کوئی تو پہلو تھا جس سے واعد انجان تھا اور یہی لا علمی اسے اس بوسیدہ گھر لے آئی ۔۔۔
وہ گھر جہاں ایک بوڑھا شخص ، ماضی کی تکلیف دہ یادوں کو دل سے لگائے ، زندگی کی آخری سانسیں گن رہا تھا ۔۔۔ زخموں سے چور روح لیے اس بوڑھے انسان کے لیے وہ گھر محض اینٹوں سے بنا مکان نہیں تھا بلکہ اپنوں کی محبت کی نشانی تھا۔۔۔۔ یہ وہ گھر تھا جہاں اس کے پیاروں کی یادیں بستی تھیں ۔۔۔ لیکن اس حقیقت سے بے خبر تھا تو واعد !
اور بینا کے لیے بھی اس گھر میں رہنے کی وجہ حالات نہیں بلکہ وہی نحیف و نزار وجود تھا جس سے وہ سب سے زیادہ محبت کرتی تھی ۔۔۔
کیا ہوگا جب مالکانہ حقوق کا دعوے دار واعد اس گھر میں پہنچے گا ؟
جاننے کے لیے پڑھیے “اجارہ نشین “!
بہت خوبصورت کہانی ہے ۔۔۔۔
پڑھتے ہوئے آپ بینا کا کرب ضرور محسوس کریں گے اور یہی رائٹر کی کامیابی ہے۔۔۔۔
ایک دو سینز میں مجھے بینا کا کردار تھوڑا جذباتی لگا لیکن اس کی اپنے نانا سے قلبی وابستگی ہی اتنی تھی کہ وہ ان کے بارے میں بات برداشت نہیں کر پائی۔۔۔۔
مجموعی طور پر 🙌 ناول ۔۔







Leave a Reply