“میراث ”
خواتین جولائی 2023ء
تحریر: آسیہ رئیس خان
تبصرہ نگار : علی عبداللہ
کسی بھی کہانی کو لکھنے کا مقصد تب ہی پورا ہوتا ہے جب رائٹر اپنی تحریر کے ذریعے سے قاری کے ذہن پر دستک دے اور اس کے ذہن کی نفسیاتی گرہ اس خوبصورتی سے کھولے کہ الجھن بھی سلجھ جائے اور پیغام کی معنوی شدت بھی محسوس نہ ہو۔۔۔۔
اور آسیہ رئیس خان کو قاری کے ذہن پر ضرب لگانا بہت اچھے سے آتا ہے۔۔۔۔
کہانی ہے میراث کی ۔۔۔۔محبت کی وراثت۔۔۔۔ وراثت صرف جائیداد کی تو نہیں ہوتی۔۔۔۔ وراثت رویوں کی بھی ہوتی ہے ۔۔۔۔وراثت احساسات کی بھی ہوتی ہے لیکن ضروری تو نہیں کہ ہر بار وراثت کا بوجھ اٹھایا جائے کہ کچھ وراثتیں واقعی بوجھ ہوتی ہیں۔۔۔ جیسے اذیت کی میراث۔۔۔۔
وہ اذیت جو احسن اور نغمہ نے محسوس کی۔۔۔۔ اذیت کی وہ کہانی جس کا سب سے بے بس کردار عفت تھیں۔۔
وہ عورت جو ساری زندگی شوہر کی بے رخی سہتی رہی اور شوہر بھی وہ جسے کبھی احساس ہی نہیں ہوا کہ وہ کب مظلوم کے درجے سے ظالم کے درجے پر فائز ہو چکے ہیں ۔۔۔۔
کیا ایسا شخص ظالم نہیں جو اپنی گم گشتہ اور ماضی کی محبت کو زندگی کا روگ بنا لے اور پھر اس کو وجہ بنا کر اپنی بیوی اور بچوں سے غافل ہو جائے؟
کیا ماضی کی محبت یا کوئی بھی رشتہ آپ کی اپنی اولاد اور بیوی سے لاتعلقی کو جسٹیفائی کر سکتا ہے اور حق جتانا یاد بھی آیا تو کب ، جب اس محبوبہ کی بیٹی کو ضرورت تھی۔۔۔
بے حسی سی بے حسی اور باپ کے اس رویے نے نفسیات پر اثر ڈالا احسن کی۔۔۔
لیکن ان سب میں قصور صرف بڑے ابا ، رقیہ کے والد کا نہیں تھا، بلکہ فوزیہ آنٹی سمیت ان تمام لوگوں کا تھا جنہوں نے تصدق اور رقیہ کی کہانی کو چٹ پٹے مصالحے کی چاٹ کی طرح ہر ایک کو سنایا اور یوں سب کی نظروں میں تصدق اور رقیہ کی کہانی محبت کی مثالی کہانی بن گئی، لیکن تصویر کا دوسرا رخ تو صرف وہی جانتے تھے جو اس کرب سے گزر رہے تھے۔۔۔۔۔
مجھے رقیہ کا کردار بھی بہت بے بس لگا ،لیکن جو انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ کیا اسے بھی تو جسٹیفائی نہیں کیا جا سکتا ۔۔
مانا کہ ان کے ساتھ غلط ہوا، ان کی محبت کو ان سے علیحدہ کر دیا گیا لیکن ان سب میں ستارہ کے والد کا تو کوئی قصور نہیں تھا۔۔
قصور تو تہنیت کا بھی نہیں تھا جو احسن سے محبت کر بیٹھی۔۔ یہ جاننے کے باوجود کہ باپ کہ ماضی سے جڑی کہانی نے احسن کو محبت سے متنفر کر دیا ہے ۔۔۔وہ چاہے بھی تو محبت نہیں کر سکتا ۔۔۔
کیا ہوگا احسن اور تہنیت کی کہانی کا انجام؟ جاننے کے لیے پڑھیے “میراث”
ستارہ کا فیصلہ بھی بہت اچھا لگا کہ اس نے جذباتیت سے کام نہیں لیا ۔۔۔۔۔
Meras by Asia Raees Khan







Leave a Reply