Titli jesa pyar by Rahat Jabeen

Titli jesa pyar by Rahat Jabeen

Tittli jesa pyar by Rahat Jabeen

Episodes 11 pages 264

Rahat Jabeen meri fav hain💖story review by Rabia Kashif

Review:

راحت جبیں کے مخصوص بے ساختہ انداز تحریر کے ساتھ سماجی مسئلے پہ لکھی جانے والی کہانی ہے، موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں ایک بہت اہم پیغام چھپا ہوا ہے۔۔ رومانٹک کہانی نہیں ہے، ہیرو ہیروئین کے گرد گھومتی کہانی نہیں ہے۔

اس میں چند اہم پیغام ہے۔۔

پہلا آج کل کے والدین کے لئے، جو اولاد کو ہر آسائش تو دیتے ہیں مگر communication Gap کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے فاصلے ختم کرنے کی کبھی کوشش نہیں کرتے۔۔۔

اور دوسرا اہم پیغام ہماری اٹھارہ بیس سال کی نوجوان نسل کے لئے ہے۔۔ جو کچی عمر کے خوابوں اور وقتی جذبوں سے مغلوب ہو کر بغیر سوچے سمجھے گھر چھوڑ دینے جیسا انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں۔۔

خاص طور پہ اس \”خاص صورتحال\” کے بعد لڑکیوں کی لئے کیا مسائل ہوتے ہیں۔۔ میم راحت جبیں نے ان تمام حالات کی ایک خوبصورت سی تصویر کشی کی ہے اور 11 اقساط میں کہانی کا ایک مکمل خاکہ ہمارے سامنے پیش کر دیا ہے۔۔۔

مرکزی کہانی یہ ہے کہ ضوباریہ اور صائم ایک متوسط علاقے میں رہتے ہیں، پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے خاندان سے دونوں کا تعلق ہے اور

دونوں کے درمیان اسکول کے زمانے سے خوب دوستی ہے۔۔ صائم کالج میں ہوتا ہے اور زوباریہ میٹرک کی اسٹوڈنٹ۔ جب وہ وقتی پسندیدگی اور نوخیز خواب و جذبوں کو لیکر بہت سنجیدہ ہو جاتے ہیں۔۔

دونوں گھروں کے بڑوں کے علم میں یہ بات آ جاتی ہے اور ان کی بار بار کی تنبیہ کے باوجود وہ دونوں کسی بھی قسم کی پابندیاں نہیں مانتے اور بنا سوچے سمجھے کورٹ میرج کرنے کے لئے گھر چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔

اس وقت زوباریہ کی عمر صرف 18 سال اور صائم کی 20 سال ہوتی ہے۔ افسوس!! ایک ایسی عمر جب کوئی نصیحت کام نہیں کرتی۔۔ تین دن مختلف حالات و واقعات کے وقوع پذیر ہونے کے بعد گھر والے انکو ڈھونڈ لیتے ہیں اور وہ واپس آجاتے ہیں۔۔

پھر ایسی صورتحال میں گھر والوں کا ردعمل، معاشرے کے طعنے، ضوباریہ اور صائم کا مستقبل اور صائم کے گھر والوں کا اس علاقے سے ہجرت کر جانا، ان سب باتوں کو بہت اچھے طریقے سے لکھا گیا ہے۔۔۔

کہانی آگے چلتی ہے، وقت گزرتا ہے ایک دوسرے سے بےخبر ضوباریہ اور صائم اپنا ایک اچھا مستقبل پا لیتے ہیں۔۔۔ انکے مستقبل کو سنوارنے میں اور کہانی کو خوشگوار اختتام تک پہنچانے میں چند مزید کردار (پروفیسر محمود، روشانے، سیماب اور ستارہ) بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔۔

اب انکا کنکشن خود پڑھ کر معلوم کر لیں۔۔

کہانی مختصر سی لگتی یے، بہت سادہ الفاظ میں لکھی گئی ہے۔ اس میں چھپے بہت سے پیغام بہت اچھے لگے۔ بہت سے اقتباسات نے خود احتسابی پہ مجبور بھی کیا۔۔

صائم کا کردار اچھا لگا، ایک نوجوان مگر انتہائی سلجھا ہوا لڑکا۔۔ ضوباریہ کی دل میں امڈ آنے والے دوغلی سوچیں بھی حقیقت کے قریب ترین لگیں۔۔

صرف ایک ذاتی خیال ہے کہ اگر یہ کہانی فلیش بیک میں لکھی جاتی تو شاید اسکا مزہ بہت زیادہ دوبالا ہو جاتا۔ مگر سب سے اہم بات کہ ایک عرصہ کے بعد راحت جبیں کا نام کسی ڈائجسٹ میں جگمگاتا دیکھ کر دل کو بہت خوشی ہوئی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *